Saturday, 12 March 2016

تعلیم

کریئر انگریزی زبان کا لفظ ہے، اور اس کے بہت سے معنی ہیں۔ لیکن مجھے اس جگہ اس کا ترجمہ ’’طرزِ معاش‘‘ درست اور زیادہ پسند آیا ہے۔ ’’گائیڈنس‘‘ بھی انگریزی میں عام استعمال ہونے لفظ ہے۔ جس کے معنیٰ ’’رہنمائی، ہدایت کے ہیں۔ یعنی ’’طرزِ معاش کے بارے میں رہنمائی۔‘‘

چونکہ پاکستان میں گذشتہ چند سالوں میں طلباء کی یونیورسٹیوں تک رسائی بڑھتی جا رہی ہے، اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اب پہلے سے کہیں زیادہ افراد داخلے لے رہے ہیں، لیکن یہ دیکھنا مشکل نہیں ہے کہ ان لاکھوں طلباء میں سے صرف کچھ ہی ایسے ہوتے ہیں، جن کا انتخاب کردہ شعبہ واقعی ان کا پسندیدہ شعبہ بھی ہوتا ہے، نتیجتاً وہ کبھی بھی اس شعبے میں اس کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپاتے، جو اس شعبے کا تقاضہ ہوتا ہے۔

اس چیز سے نمٹنے کے لیے کریئر گائیڈنس کا ہونا بہت ضروری ہے، اور یہ بلاگ اسی حوالے سے تحریر کیا گیا ہے۔

کریئر گائیڈنس کی ضرورت کیا ہے؟
موجودہ دور میں تعلیم کا بنیادی مقصد بچوں کو آسان طریقے سے روزگار کے قابل بنانا ہے، کیونکہ فرد سے افراد، افراد سے خاندان، اور خاندانوں سے قوم وجود میں آتی ہے۔ فرد جو معاشرہ کی بنیادی اکائی ہے، جب تک وہ خوشحال نہیں ہوگا، کوئی بھی قوم اور ملک خوشحال نہیں ہوسکتے۔

آج اقوام عالم پر غور کرلیں، آپ کو خوشحال ملکوں کے پیچھے خوشحال افراد ہی نظر آئیں گے۔ سادہ سی بات ہے کہ جب ایک فرد خوشحال ہوجاتا ہے، تو اس کی قوتِ خرید بڑھ جاتی ہے۔ اس کے زیادہ چیزیں خرید سکنے کی وجہ سے معاشرے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ پاکستان جیسے معاشرے میں ایک خوشحال شخص کے ساتھ کئی لوگوں کی نوکری لگ جاتی ہے۔ مثلاً ایک کامیاب ڈاکٹر کے ساتھ کمپوڈر، نرس، آفس بوائے، ڈرائیور، چوکیدار، مالی، باورچی، گھر کی ماسی، سوئیپر، وغیرہ کی نوکریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔

پڑھیے: تعلیم یا کاروبار

اب کیونکہ معاشرے کے تمام افراد ہی اپنے بچوں کو کامیاب و کامران کرنا چاہتے ہیں، اس ہی لیے وہ سخت محنت کرتے ہیں، اور اپنی استعداد کے مطابق، جبکہ کئی خاندان تو اپنی مالی استعداد سے بڑھ کر ان پر ’’توانائی‘‘ خرچ کرتے ہیں۔

یہاں میں نےلفظ ’’توانائی‘‘ اس لیے استعمال کیا ہے کیونکہ عموماً بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں صرف مالی وسائل کو شمار کیا جاتا ہے، جبکہ روپے پیسے کے علاوہ والدین بے شمار ذہنی اور جسمانی مشقت بھی برداشت کرتے ہیں۔

لیکن عموماً طالب علم جب وہ تعلیم مکمل کرلیتا ہے تو اس کو اس شعبہ میں روزگار نہیںملتا، جس کی اس نے تعلیم حاصل کی ہے۔ اس سے نہ صرف وہ نوجوان بلکہ اس کا خاندان بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اور بعض اوقات کئی خوفناک حادثات بھی جنم لیتے ہیں۔ یا روزگار تو مل ہے لیکن بس گزارے جیسا۔ بقول فیض احمد فیض مرحوم

’’وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں‘‘

غلط کریئر کے انتخاب کے نقصانات
غلط کریئر کے انتخاب کے بہت سے نقصانات ہوتے ہیں، اور غلط کریئر کے انتخاب کا نقصان نہ صرف ایک فرد کو ہوتا ہے، بلکہ اس کا نقصان پوری سوسائٹی کو ہوتا ہے۔ سب بڑا نقصان یہ ہے کہ ملک میں تعلیم یافتہ ڈگری یافتہ بے روزگاروں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

غلط شعبہ کا انتخاب کرنے والے عموماً ذہنی پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مایوسی، ڈپریشن، نیند کی کمی جیسے یماریاں بڑھ رہی ہیں، جبکہ بعض اوقات مایوسی اور ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی جیسے تکلیف دہ واقعات بھی پیش آ جاتے ہیں۔

اس لیے طالب علموں اور خاص کر والدین کو چاہیے کہ وہ کریئر پلاننگ پر قدرے زیادہ توجہ دیں تاکہ ناسمجھی میں کہیں غلط شعبے کا انتخاب نہ ہوجائے، جس سے زندگی کے کئی قیمتی سال ضائع ہوجاتے ہیں۔

کریئر پلاننگ کا فائدہ کیا ہے؟
ویسے منصوبہ سازی کے ہمیشہ فائدے ہی ہوتے ہیں، لیکن کریئر پلاننگ کے کچھ فائدے جو مجھے سمجھ آئے ہیں، وہ یہ ہیں۔

-درست منصوبہ سازی سے کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

-آپ کے پاس ایک پلان کی تیاری کے بعد خودبخود پلان بی، اور پلان سی تیار ہوجاتے ہیں۔

-چونکہ منزل یا ہدف کا تعین ہوچکا ہوتا ہے، اس لیے مایوسی کم ہوتی ہے، اور اس کام میں دل چسپی بڑھ جاتی ہے۔

-وسائل، وقت، سرمائے، اور توانائی کی بچت ہوتی ہے

-چونکہ منصوبہ سازی کے لیے آپ کئی طریقوں سے معلومات حاصل کرتے ہیں، اس لیے آپ فراڈ لوگوں/تعلیمی اداروں سے بچ جاتے ہیں۔

-گول کے تعین سے آپ کا کامیابی تک کا سفر کم ہو جاتا ہے۔

-سوسائٹی کو اپنے شعبے میں زیادہ دلچسپی رکھنے والے قابل افراد میسر آتے ہیں۔

اس کے علاوہ سب سے اہم قومی وسائل کی بچت ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بہت سے ڈاکٹر، انجینئر اپنے ڈگری مکمل کرنے کے بعد کسی دوسرے شعبہ میں چلے جاتے ہیں۔ مثلا سی ایس ایس کر کے بیورکریسی کا حصہ بن جاتے ہیں یا جیسے آج کل بہت سے ’’ڈاکٹر‘‘ میڈیا پرسن بن چکے

No comments:

Post a Comment